Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tafsir: Bani Israil 17:100

17:100
قل لو انتم تملكون خزاين رحمة ربي اذا لامسكتم خشية الانفاق وكان الانسان قتورا ١٠٠
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًۭا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ قَتُورًۭا ١٠٠
قُل
لَّوۡ
أَنتُمۡ
تَمۡلِكُونَ
خَزَآئِنَ
رَحۡمَةِ
رَبِّيٓ
إِذٗا
لَّأَمۡسَكۡتُمۡ
خَشۡيَةَ
ٱلۡإِنفَاقِۚ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
قَتُورٗا
١٠٠
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
انسانی فطرت کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الٰہی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہو جائے تو وہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا» ‏ [4-النساء:53] ‏ ” اگر ملک کے کسی حصے کے یہ مالک ہو جائیں تو کسی کو ایک کوڑی پرکھنے کو نہ دیں۔ “

پس یہ انسانی طبیعت ہے۔ ہاں جو اللہ کی طرف سے ہدایت کئے جائیں اور توفیق خیر دئیے جائیں، وہ اس بدخصلت سے نفرت کرتے ہیں، وہ سخی اور دوسروں کا بھلا کرنے والے ہوتے ہیں۔ «‏إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا * إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا * وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا * إِلَّا الْمُصَلِّينَ» ‏ [70-المعارج:19-22] ‏ ” انسان بڑا ہی جلد باز ہے، تکلیف کے وقت لڑکھڑا جاتا ہے اور راحت کے وقت پھول جاتا ہے “

اور دوسروں کے فائدہ سے اپنے ہاتھ روکنے لگتا ہے، ہاں نمازی لوگ اس سے بری ہیں الخ۔ ایسی آیتیں قرآن میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس سے اللہ کے فضل و کرم، اس کی بخشش و رحم کا پتہ چلتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ دن رات کا خرچ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ ابتداء سے اب تک کے خرچ نے بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ [صحیح بخاری:4684] ‏

صفحہ نمبر4819